بھٹکل:12؍ دسمبر(ایس اؤ نیوز )ریاست بھر میں گردابی طوفان ’’مینڈاس‘‘ کےاثرات کے چلتے دھوپ غائب ہوگئی ہے ۔ سنیچر کی رات سے جاری ہلکی بارش اتوار کے بعد آج پیر کی رات تک جاری ہے جس کے نتیجے میں ایک طرف ٹھنڈی کا خوشگوار موسم ہے تو دوسری طرف بے موسم برسات سے عام زندگی مفلوج ہوگئی ہے۔
ماہ سرما کے دسمبرمیں ہونے والی بارش کے نتیجےمیں سردی مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔ موسم میں ہونے والی تبدیلی سے سردی ، کھانسی کی بیماریوں میں اضافہ کا خدشہ جتایاجارہاہے۔جہاں تہاں بچوں کی صحت کے متعلق فکر مندی ظاہر کی جارہی ہے۔ اتوار اور پیر کی شام سے رات دیر گئے تک برستی ہلکی بارش سے موٹر بائک سواروں کو بھی سواریوں کو چلانے میں کافی دشواری پیش آرہی ہے۔ چھتری اور رین کوٹ کے بغیر بازار میں گھومنے والے افراد اچانک ہونےوالی بارش سے ادھر ادھر بھاگتے ہوئے نظر آئے تو کچھ لوگ دکانوں کے سایےمیں سہارا ڈھونڈتے نظر آئے ،جبکہ کئی لوگ بھیگتے ہوئے بھی گھروں کو جانے میں عافیت سمجھی۔ اسی طرح اچانک برسنےوالی بارش کی وجہ سے کسانوں نےبھی اپنی زرعی سرگرمیوں کوملتوی کردیاہے۔ عام طورپر اس موسم میں کسان مونگ پھلی کی کاشت کی تیاری میں رہتےہیں۔
لائٹ فشنگ کا پہلا دن : دسمبر کے دو ہفتہ ختم ہونے کو ہیں، ماہی گیری اپنے لئے راستے تلاش کرنے میں لگے ہے۔ دوہفتوں سے بانگڑا مچھلیوں میں کمی دیکھی جارہی تھی جب کہ بے شمار تعداد میں تارلی مچھلیاں بازار میں بھری پڑی تھی ۔ اس کے باوجود کئی بوٹ مناسب کمائی نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ اتوار سے لائٹ فشنگ دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔ فرشین بوٹ والے اپنی تیاری میں ہیں۔ لائٹ فشنگ کے لئے پہلے ہی دن مینڈس گردابی طوفان سے ماہی گیری متاثر ہوتی نظر نہیں آرہی ہے البتہ ماہی گیر چوکنا ہیں اور موسم کی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے ماہی گیری جاری رکھنےکے امکانات ہیں۔
کڑاکے کی سردی: بینگلور میں عام طور پر موسم سرد رہتا ہی ہے، مگر گذشتہ تین دنوں سے ہورہی ہلکی بارش کے بعد کڑاکے کی سردی دیکھی جارہی ہے۔رات کے اوقات میں یہاں درجہ حرارت 15 سے 17 ڈگری تک پہنچ رہا ہے۔
بھٹکل ، مینگلور، ا ُڈپی اور کاروار سمیت ساحلی کرناٹک میں بھی اس بار سردی کی لہر دیکھی جارہی ہے، ییہاں درجہ حرارت 24 سے 26 ڈگری ریکارڈ کی جارہی ہے۔